Phone: (021) 34815467   |   Email: info@almisbah.org.pk

فتاویٰ


کمپنی کے حصص مارکیٹ ویلیو سے زیادہ پر فروخت کرنے کا حکم


سوال

میری کپڑے کی چھوٹی کمپنی ہے جس میں دو لوگ نصف نصف شریک ہیں ۔ اس کمپنی کی کل مالیت گڈول کو ملا کر تقریبا 5 کروڑ روپے ہے اب ایک اور شخص اس کاروبار میں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتا ہے جس کے لئے ہم نے معاملہ اس طرح کیا ہے کہ 6 کروڑ روپے کے بدلے اس کو کمپنی کے 33فیصد حصے کا مالک بنایا ہے یعنی اس کو کمپنی کا 33 فیصد حصہ فروخت کیا ہے اس کی قیمت پوری کمپنی کی مالیت سے زیادہ لگائی ہے،اور خریدنے والے کو معلوم ہے کہ کمپنی کی کل مالیت 5 کروڑ ہے اور نفع تینوں میں 33 فیصد کے حساب سے طے ہو ہے:
اب دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں؟ وہ یہ کہ
1 ۔ کیا ہمارے لئےاس طرح 6کروڑ کے بدلے 33فیصد حصہ فروخت کرنا جائز ہے ؟
2۔ چلتے کاروبار میں کسی کو شریک کرنے کے لئے اس کا روبار کی کونسی ویلیو لگائی جائے گی ، مارکیٹ ویلیو یا اندازے سے کچھ بھی مقرر کی جاسکتی ہے؟

جواب

اپنی مملوکہ چیز فروخت کرنے کی صورت میں باہمی رضامندی سے اس کی کوئی بھی قیمت مقرر کی جاسکتی ہے بشر طیکہ کسی قسم کا دھو کہ اور غلط بیانی نہ کی جائے ، تاہم بہتر یہ کہ ایسی قیمت مقرر کی جائے جو معقول ہو چاہے بازاری قیمت (مارکیٹ ویلیو) کے اعتبار سے مقرر کی جائے یا اندازے سے مقرر کی جائے، لہذا مذکورہ صورت میں اگر خرید نے والا عاقل اور بالغ ہے، اور فرخت کنندہ نے معاملہ کرتے وقت واضح کیا ہے کہ اس کمپنی کی کل مالیت تقریبا 5 کروڑ روپے ہے جس کی ایک تہائی (33فیصد حصص) کی مالیت تقریبا ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے بنتی ہے ، اور ایک تہائی ( 33فیصد حصص) کو 6 کروڑ روپے میں فروخت کر رہا ہوں، اور یہ معاملہ باہمی رضامندی سے ہوا ہے تو یہ معاملہ درست ہے، اور وہ شخص کمپنی کے 33فیصد حصص کا مالک بن گیا ہے۔

رد المحتار (4/575)
مطلب في الفرق بين القيمة والثمن والفرق بين الثمن والقيمة أن الثمن ما تراضى عليه سواء زاد على القيمة أو نقص.
فتح القدير للكمال بن الهمام (٦ / ٢٦٠)
والأثمان المطلقة لا تصح إلا أن تكون معروفة القدر والصفة؛ لأن التسليم والتسلم واجب بالعقد (قوله والأثمان المطلقة) أي عن قيد الإشارة لا تصح حتى تكون معلومة القدر) كخمسة وعشرة دراهم أو أكرار حنطة، بخلاف ما لو اشترى بوزن هذا الحجر ذهبا فإنه ليس عوضا مشاراً إليه، فإن المشار إليه الحجر ولا يعلم قدر جرم ما يوزن به من الذهب، فلهذا إذا اشترى بوزن هذا الحجر ذهبا فوزن به كان له الخيار. ومما لا يجوز البيع به البيع بقيمته أو بما حل به، أو بما تريد أو تحب أو برأس ماله أو بما اشتراه أو بمثل ما اشترى فلان لا يجوز.
فقه البيوع (۳۸۰/۱)
ومن هذه الجهة، فإن بيع السهم بيع حصة مشاعة في موجودات الشركة، وينطبق عليه أحكام بيع المشاع. وبذلك صدر قرار مجمع الفقه الإسلامي، ونصه:" إن المحل المتعاقد عليه في بيع السهم هو الحصة الشائعة من أصول الشركة. وشهادة السهم عبارة عن وثيقة واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب للحق في تلك الحصة.


دارالافتاء : دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی فتویٰ نمبر : 2838/16 المصباح : DBJ:005
11 0