کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
حکومتی قوانین کے مطابق ہر کمپنی اپنی سالانہ آمدنی میں سے جائز اخراجات (Expenses) نکالنے کے بعد بیچنے والے خالص نفع (Net Profit) پر ٹیکس ادا کرتی ہے۔ جس کو اٹم ٹیکس کہا جاتا ہے اور اس کی شرح حکومت کے مقررہ ادارہ کی طرف سے طے ہوتی ہے۔
میری ایک کمپنی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ہمارے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نے کچھ Fake Enries کر کے فرضی اخراجات (Expenses) شامل کر دیے تاکہ کمپنی کا خالص نفع کم ظاہر کیا جا سکے۔ اس غلط بیانی کی وجہ سے کمپنی پر نہ صرف انکم ٹیکس کم لاگو ہوا، بلکہ ہمیں حکومت سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ایک بڑی رقم ریفنڈ کی صورت میں واپس مل گئی۔
واپس ملنے والی اس رقم میں کچھ حصہ تو قانوناً ہمارا جائز حق تھا، لیکن باقی حصہ نفع کم ظاہر کرنے کی وجہ سے اضافی ملا۔ ہم نے اس ساری رقم کو دوبارہ اپنی کمپنی کے کاروبار میں لگا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ : کیا اس اضافی ٹیکس ریفنڈ کو اپنے کاروبار میں استعمال کرنا شرعاً ہمارے لیے جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو اب اس رقم کا کیا حکم ہے ؟
نوٹ: اب ریکارڈ دوبارہ درست کر کے جمع کروانے کی صورت میں ہمارے لئے قانونی لحاظ سے مشکلات اور پیچید گیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سوال میں ٹیکس کم کروانے کے لیے حسابات میں فرضی اخراجات شامل کرنے کا طریقہ جھوٹ اور دھو کہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز تھا، آئندہ اس سے اجتناب کرنا لازم ہے، اور اس طریقہ کو استعمال کرنے کی وجہ سے ریفنڈ کی صورت میں جو اضافی رقم آپ کو ملی، وہ رقم لینا بھی درست نہیں تھا، تاہم جب لندی 35 اصل آپ نے یہ رقم کاروبار میں لگا دی تو اس سے آپ کی آمدنی حرام نہیں ہوئی، نیز ظالمانہ ٹیکس کی حد تک رقم کی واپسی ضروری نہیں۔
رد المختار (422/6)
والأفضل مشاركة أهل محلته في إعطاء النائبة لكن في زماننا أكثرها ظلم فمن تمكن من دفعه عن نفسه فحسن، وإن أعطى فليعط من عجز . (قوله فمن تمكن إلخ) أطلقه فشمل ما لو تحمل غيره نائبته. وفي القنية توجه على جماعة جباية بغير حق فلبعضهم دفعه عن نفسه إذا لم يحمل حصته على الباقين، وإلا فالأولى أن لا يدفعها عن نفسه قال رضي الله عنه : وفيه إشكال؛ لأن إعطاءه إعانة للظالم على ظلمه، ثم ذكر السرخسي مشاركة جرير وولده مع سائر الناس في دفع النائبة بعد الدفع عنه ثم قال: هذا كان في ذلك الزمن؛ لأنه إعانة على الطاعة وأكثر النوائب في زماننا بطريق الظلم فمن تمكن من دفعه عن نفسه فهو خير له اه. ما في القنية۔۔۔۔ والله سبحانه و تعالیٰ اعلم بالصواب