السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
اجتماعی قربانی کرنے والا ایک ادارہ اپنے پیسوں سے قربانی کا جانور خرید لیتا ہے ، اور اس پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے قبضہ کر لیتا ہے ، اس کے بعد ادارہ ، اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والے شرکاء کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ ادارہ ، قربانی کے مکمل جانور کی قیمت ، مثال ایک لاکھ روپیہ طے کر دیتا ہے اور شرکاء سے کہتا ہے کہ قربانی کا جانور یا مطلوبہ حصہ (مثلاً ایک، دو یا تین و غیرہ) ادارہ سے لینے کی صورت میں قربانی سروسز ( جانور کی دیکھ بھال ، کٹائی اور پیکینگ وغیرہ) ادارہ کی طرف سے مفت ( فری) ہیں۔
سوال یہ ہے کہ :
ادارہ کا جانور کی قیمت مثلاً ایک لاکھ روپیہ طے کر کے فروخت کرنا اور قربانی سروس ( جانور کی دیکھ بھال ، کٹائی اور پیکینگ و غیر ہ ) مفت (فری) فراہم کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟ جبکہ ادارہ اپنا منافع اور اخراجات جانور فروخت کرنے کی صورت میں ہونے والے نفع سے پورا کر تا ہے۔
دوسراسوال:
اجتماعی قربانی کرنے والا ادارہ اپنے پیسوں سے قربانی کا جانور خرید لیتا ہے، اور اس پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے قبضہ کر لیا سے لیتا ہے، اس کے بعد جو شخص اجتماعی قربانی میں حصہ لینا چاہتا ہے اس کو مکمل جانور یا مطلوبہ حصے (مثلاً ایک، دو یا تین وغیر ہ) اپنا منافع رکھ کر فروخت کر دیتا ہے۔
اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والے بہت سے شرکاء قربانی کی بکنگ آن لائن کرواتے ہیں ، ( آنلائن بکنگ کی صورت میں خریدار ( شرکاءکی طرف سے جانور پر قبضہ نہیں کیاجاتا) ادارہ یہ کرتا ہے کہ آنلائن بکنگ کے بعد ادارہ ہر شریک کے لیے جانور متعین کر دیتا ہے، پر نمبر لگایا جاتا ہے اور شر کاء کو اطلاع دی جاتی ہے کہ " آپ کا حصہ جانور نمبر فلاں میں ہے ، آپ چاہیں تو آکر دیکھ سکتے ہیں ۔
اکثر شرکاء خود آکر جانور نہیں دیکھتے ، تو ادارہ ان شرکاء کو جانور کی تصویر بھیج دیتا ہے کہ اس جانور میں آپ کا حصہ ہے۔ اور بعض شرکاء کو تصویر نہیں بھیجی جاتی، صرف اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا حصہ جانور نمبر فلاں میں ہے ، آپ چاہیں تو آکر دیکھ سکتے ہیں، اور قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔ پھر ان کی طرف سے نائب بن کر ان کی اجازت سے قربانی کر دی جاتی ہے اور قربانی کے بعد شرکاء کو جانور میں سے اس کے حصہ کے بقدر دے دیا جاتا ہے۔
اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ :
1. کیا جانور کی تعیین (نمبر نگ کے ساتھ ) کرنے اور شرکاء کو اطلاع دینے کے بعد شریک کے لیے جانور پر قبضہ شمار ہو گا یا نہیں ؟
2. کیا جانور کی تعیین (نمبر نگ کے ساتھ) کرنے اور تصویر ارسال کرنے کے بعد شریک کے لیے جانور پر قبضہ شمار ہو گا یا نہیں ؟
3. اور کیا شرعا اس طریقہ کار سے شریک کی قربانی درست ہو جائے گی ؟
4. اگر اس طریقہ کار سے قبضہ شمار نہیں ہو گا تو قبضہ کے لیے شرعا کیا طریقہ درست ہے؟ جبکہ اکثر شرکاء خود آکر جانور دیکھنے، قبضہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے یا ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ دوسری طرف اس جانور میں بعض شرکاء کا قبضہ ہو چکا ہوتا ہے۔
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً ۔
(1) واضح رہے کہ قربانی ایک عبادت ہے، اور عبادات کو کمانے کا ذریعہ بنالینا، شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ عمل ہے، نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اجتماعی قربانی کے منتظمین حضرات کے پاس جو حضرات حصہ ڈالنے کے لئے آتے ہیں ان کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ ان سے جانور خرید کر اپنی قربانی کرائیں بلکہ عام طور پر حصہ لینے والوں کا انکے پاس آنے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ نیک لوگ ہیں، ہماری قربانی کو بہتر سے بہتر طریقہ سے ادا کریں گے، چنانچہ عام طور پر حصے والے انہیں جانور خرید کرانکی طرف سے قربانی کرنے کا وکیل بناتے ہیں اس لئے اجتماعی قربانی کے منتظمین حضرات کا اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ لو گوں کی عبادت کو اپنے لئے کمانے کاذریعہ بنانے کے بجائے ان کی عبادت کو بہتر اور اچھے طریقے سے سرانجام دیں اور امانت داری اور دیانتداری کے ساتھ اس کام کو اس طرح انجام دیں کہ شرعی لحاظ سے اس میں کوئی ادنی خامی باقی نہ رہے ۔ ہاں جانور کی خریداری سے لیکر اسکی دیکھ بھال ، ذبح ،کٹائی وغیرہ سمیت گوشت کی پینگ و تقسیم تک جوجو خرچہ ہو وہ حصے داروں پر ڈال کر ان سے وصول کریں، بلاشبہ یہ جائز ہے۔ یعنی اگر اس مقصد کے لئے فریقین کے مابین صراحہ معاہدہ ہوا ہو تو منتظمین معاہدہ کے مطابق یہ خرچہ اجتماعی قربانی کے شرکاء پر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن اگر با قاعدہ معاہدہ نہیں ہوا بلکہ معاملہ عرف پر مبنی ہو تو منتظمین صرف وہی خرچہ اسی قدران پر ڈال سکتے ہیں یا ان سے لے سکتے ہیں جو خرچہ جس قدر اہل عرف کے نزدیک ثابت ہے اس سے زائدکوئی خرچہ لینا یا ان پر ڈانا منتظمین کے لئے جائز نہیں۔
بہر حال اجتماعی قربانی میں منتظمین حضرات کا بنیادی اور اصل مقصد عام مسلمانوں کیلئے بآسانی قربانی کی عبادت انجام دینے کا موقع فراہم کرنا پیش نظر ہونا چاہیے، اپناد نیادی فائدہ مقصد نہ ہو ، اگر مانت و دیانت کے ساتھ خدمت کی نیت سے اجتماعی قربانی کی جائے، تو ان شاء اللہ عبادت کا ثواب بھی ملے گا اور مخلوق کو آسانی فراہم کرنے کا اجر بھی ملے گا، جبکہ اگر کسی غفلت ، بے احتیاطی یاد نیوی حرص ولالچ کی وجہ سے کوئی خیانت کا ارتکاب ہو تو سخت گناہ کا اور دنیاء و آخرت میں وبالِ جان بنے گا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں سوال میں مذکور طریقہ سے گول مول بات کرکے اس عمل کو کمانے کا ذریعہ بنانا درست نہیں ، نیز دیانت وامانت کے خلاف اس میں کوئی عمل کرنا نہ صرف شرعاً نا جائز ہے بلکہ دین اور دین دار لوگوں کے لئے باعث بد نامی بھی ہے جو واجب الترک ہے۔
اور سب سے بڑی خرابی اس معاملہ میں یہ ہے کہ سوال کے مطابق اجتماعی قربانی کے منتظمین حضرات اپنا جانور قربانی میں حصے لینے والوں کو ایک ایسی قیمت پر فروخت کرتے ہیں جس میں اس قدر نفع حاصل کرتے ہیں کہ اس میں جانور کی رکھوالی ، ذبح و کٹائی سمیت مختلف سروس کا معاوضہ بھی شامل ہوتا ہے یعنی یہ تمام چیزیں نفع کی مقدار میں پہلے ہی سے شامل کرکے رقم ان سے وصول کرتے ہیں ، جسکا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے خریداروں کو یہ بتاتے کہ ہم نے اپنی سروس کا معاوضہ اپنے نفع میں شامل کر لیا ہے اس لئے انکا الگ سے کوئی معاوضہ نہیں لیں گے۔ لیکن اسکے برخلاف وہ اپنے خریداروں کو ان سے جانور خریدنے کی طرف راغب کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ جانور کی دیکھ بھال، کٹائی اور پیکنگ وغیرہ سروسز ہم اپنے خریداروں کو مفت فراہم کرتے ہیں۔ نیز اجتماعی قربانی کے منتظمین کی طرف سے حصے داروں سے اپنے فروخت شدہ جانور کی قیمت اور اپنی سروسز کا معاملہ الگ الگ طے کرنے کے بجائے سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق ایک مجموعی رقم طے کرکے لینے میں اور بھی کئی خرابیاں شرعا لازم آتی ہیں اس حوالہ اس طریقہ سے معاملہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
(۲) نہیں؛ کیونکہ صورتِ مسئولہ میں منتظمین خود بائع ہیں ، اور حصے دار مشتری ہیں اس لئے جس طرح منتظمین حضرات اپنے حصے داروں یا انکے نمائندوں سے باقاعدہ ایجاب و قبول کا معاملہ کئے بغیر یکطرفہ طور پر خرید و فروخت کی تکمیل نہیں کر سکتے (کیونکہ الواحد لا یتولی الطرفین) اسی طرح ان کی طرف سے قبضہ بھی نہیں کر سکتے۔
(۳) جب تک خریداری کا عمل مکمل نہ ہو اور شرعی طریقے کے مطابق حصے دار کا قبضہ اس جانور پر نہ ہو تو اس کی طرف سے قربانی کیسے درست ہو سکتی ہے ؟
(۴) یہاں صرف قبضہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل خرید و فروخت کے طریقے کا مسئلہ بھی ہے اور دونوں میں اصلاح ضروری ہے۔ نیز ہماری تجویز یہ ہے کہ اسے کمانے کا ذریعہ بنانے کے بجائے قابل اطمینان اور مکمل شرعی اہتمام کے ساتھ اجتماعی قربانی کا اہتمام کیا جائے۔ باقی تفصیل اوپر آچکی ہے۔ ۔۔ واللہ اعلم بالصواب